اربعینِ حسینیؑ کا تمدنی انقلاب؛ شور اور شعور جب انقلابی حرکت بن جائیں!

حوزہ / نجف سے کربلا کا یہ پیدل سفر دراصل "تفرقات سے نکل کر اتحاد کی طرف بڑھنے" کا نام ہے۔ جب ایک زائر اپنے گھر بار اور آرام کو چھوڑ کر سفر کی تمام تر تکلیفوں، مالی اور جسمانی مشقتوں کو جھیلتا ہوا اس راہ میں قدم رکھتا ہے، تو وہ ربِ کریم کی خصوصی رحمتوں کا حق دار بن جاتا ہے۔

تحریر: مولانا سید امجد نقوی، خطیب جامع مسجد غازی امام (رہ) جنڈ

حوزہ نیوز ایجنسی | آج کی دنیا میں جب مغرب کی مادّی تہذیب عالمی سطح پر چھا چکی ہے، مسلم امت کو ایک ایسی "نرم طاقت" (Soft Power) کی اشد ضرورت ہے جو سرحدوں، رنگ، نسل اور زبان کی تفریق کو مٹا کر ایک عالمگیر معنوی تمدن کی بنیاد رکھ سکے۔ اسی تناظر میں، نجفِ اشرف سے کربلاۓ معلیٰ کا پیدل سفر یعنی "اربعین کا پیدل مارچ" اب محض ایک روایتی مذہبی رواج یا رسم نہیں رہا، بلکہ یہ ایک بین الاقوامی، تمدنی اور انقلابی تحریک بن چکا ہے۔

اس عظیم روحانی اجتماع میں نہ صرف دنیا بھر کے مسلمان بلکہ اہل سنت، عیسائی، اور دیگر مذاہب و فکر سے تعلق رکھنے والے دانشمند اور عام لوگ بھی کھنچے چلے آتے ہیں۔ یہ سفر انسان کو ذات کے خول سے نکال کر ایک عالمگیر امت کے روپ میں ڈھال دیتا ہے۔

۱. کثرت سے وحدت کی طرف سفر

نجف سے کربلا کا یہ پیدل سفر دراصل "تفرقات سے نکل کر اتحاد کی طرف بڑھنے" کا نام ہے۔ جب ایک زائر اپنے گھر بار اور آرام کو چھوڑ کر سفر کی تمام تر تکلیفوں، مالی اور جسمانی مشقتوں کو جھیلتا ہوا اس راہ میں قدم رکھتا ہے، تو وہ ربِ کریم کی خصوصی رحمتوں کا حق دار بن جاتا ہے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے زیارتِ حسینیؑ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

"جو شخص اپنے گھر سے امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے مقصد سے نکلے، اگر وہ پیدل ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ کربلا پہنچ جائے..."

تاہم، زیارت کو خود آخری مقصد اور منزل نہیں سمجھنا چاہیے۔ ظاہری زیارت، روضے پر ہاتھ لگانا یا ضریح کو چومنا اپنی جگہ درست، لیکن اس عظیم سماجی اور تمدنی تحریک کے اصل مقصد کو سمجھنا اشد ضروری ہے۔ بقولِ شاعر:

کعبه یک سنگ نشان است که ره گم نشود

حاجی احرام دگر بند ببین یار کجاست!

۲. صرف آنسو نہیں، سمجھ بوجھ اور فکر کی ضرورت

اربعینِ حسینیؑ زائرین کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس اجتماع کی اصل حکمت پر غور کریں۔ یہ سفر اس ثقافتی بھول کا علاج کرتا ہے جس کے تحت ہم سالہا سال سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی پُربرکت زندگی کو محض ایک دن یا ایک رات کے مصائب تک محدود کر دیتے ہیں اور صرف زخموں پر رو کر تسلی پا لیتے ہیں۔

ایک سچے حسینی زائر کو زیارت کے ساتھ ساتھ ان باتوں پر بھی غور کرنا چاہیے:

  • امام حسین علیہ السلام کے قیام کے بنیادی اسباب کیا تھے؟
  • آج کے دور میں اپنے اور بیگانے (دوست اور دشمن) کی پہچان کیسے ممکن ہے؟
  • مسلم امت کی موجودہ پسماندگی کی وجوہات کیا ہیں؟
  • مسلم معاشرہ دوبارہ کس طرح عروج، عزّت اور طاقت حاصل کر سکتا ہے؟

۳. جذبے، عقل اور عمل کا توازن

ہماری تاریخ میں محض جذبہ (شور) یا محض عقل و علم (شعور) کئی بار ناكام ثابت ہوئے ہیں۔ تاریخ ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے جن کے پاس شدید جذبہ بھی تھا اور دینی سمجھ بوجھ بھی، لیکن امتحان کے وقت انہوں نے اپنے وقت کے امام کو اکیلا چھوڑ دیا۔

مامون عباسی کی مثال: مامون اتنی دینی سمجھ بوجھ اور علم رکھتا تھا کہ ایک ہی مجلس میں علمائے اہل سنت کو قرآنی دلائل سے قائل کر کے امیر المومنین حضرت علیؑ کی افضلیت ثابت کر دیتا تھا، مگر وہی شخص بالآخر وقت کے امام (امام رضاؑ) کا قاتل بنا۔

شہید شیخ فضل اللہ نوریؒ کا واقعہ: آپ کی مظلومانہ شہادت ان لوگوں اور مجتہدین کی سستی اور عدمِ تحرک کی وجہ سے ہوئی جو حسینی جذبہ اور سمجھ بوجھ رکھنے کے باوجود موقع پر قدم نہ اٹھا سکے۔

انسان کی شخصیت کے تین بنیادی پہلو ہیں:

  1. دل (جذبہ / شور)
  2. عقل (سمجھ بوجھ / شعور)
  3. قدم (عمل / حرکت)

دین جب تک صرف عقل یا دل تک محدود رہے گا، مسلم معاشرے بحرانوں کا شکار رہیں گے۔ جذبے اور عقل کو مل کر 'عمل' بننا ہوگا—ایسا عمل جو ظلم، استکبار، اور صھیونزم کی بنیادیں ہلا دے اور امت کو خوف و ناداری سے نجات دلا کر عزّت و خودداری عطا کرے۔

۴. اربعین ایک تمدنی اور راہ ہموار کرنے والی تحریک کیوں ہے؟

اربعینِ حسینی کو ایک نیا اسلامی تمدن قائم کرنے اور امامِ زمان (حضرت مہدی عجل اللہ فرجہ) کے ظہور کے لیے راستہ ہموار کرنے کا ذریعہ کیوں مانا جاتا ہے؟ اس کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:

عالمی اور ہر مذہب کے لیے کشش: یہ تحریک آہستہ آہستہ جغرافیائی حدود سے نکل کر ظہور کا انتظار کرنے والوں کا ایک عالمی محاذ بنا رہی ہے۔

نوجوان نسل کی بھرپور شرکت: اس پیدل مارچ میں بچوں اور جوانوں کی اکثریت شامل ہے، جو کسی بھی پائیدار اصلاحی اور انقلابی تحریک کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔

ایثار اور میزبانی کی متبادل ثقافت: اربعین کے دنوں میں جو سخاوت، باہمی احترام اور روحانی ماحول نظر آتا ہے، وہ مغرب کی خود غرضانہ مادیت سے تنگ آئے ہوئے انسانوں کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha